ممبئی 28؍ جنوری (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) ممبئی ہائی کورٹ نے آج یہاں مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کے اہم ملزم کرنل پروہیت کی جانب سے یو اے پی اے قانون کا اطلاق کرنے والی عرضداشت پر یہ کہتے ہوئے سماعت کرنے سے انکار کردیا کہ نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف داخل عرضداشت نا قابل سماعت ہے کیونکہ نچلی عدالت کا فیصلہ حتمی فیصلہ نہیں ہے لہذا اگر ملزم کو اس فیصلہ کو چیلنج کرناہے تو اسے رٹ پٹیشن داخل کرنا چاہئے جبکہ کرنل پروہیت نے کریمنل اپیل داخل کی ہے ۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ سے بھگواملزم کو زبردست جھٹکا لگا ہے کیونکہ اسے امید تھی کہ اس کی عرضداشت پر سماعت ہوگی ۔
اس معاملے میں بطور مداخلت کار متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے وکیل شاہد ندیم نے آج کی عدالتی کارروائی کے متعلق کہا کہ آج ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے ایس اوکا اور جسٹس اے ایس گڈکری کو این آئی اے اور مداخلت کار کے وکلاء نے بتایا کہ اس معاملے میں کرنل پروہیت کی جانب سے داخل کردہ اپیل نا قابل سماعت ہے کیونکہ این آئی اے ایکٹ کی دفعہ 21؍ کے تحت ان ہی فیصلو ں کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے جو حتمی ہے لہذا اس معاملے میں خصوصی این آئی اے عدالت کا یو اے پی اے قانون کے اطلاق پر دیا گیا فیصلہ حتمی نہیں ہے کیونکہ عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا ہیکہ دوران ٹرائل ہی یہ واضح ہو پائے گا کہ آیا خصوصی اجازت نامہ (سینکشن) قانونی ہے یا غیر قانونی ہے۔
این آئی اے اور مداخلت کار کے اعتراض پر عدالت نے ملزم کرنل پروہیت کے وکیل ششی کانت شیودے کو کہا کہ آیا وہ اس عرضداشت کو کریمنل رٹ پٹیشن میں تبدیل کریں یا واپس سے ہائی کورٹ سے رجوع ہوں یا پھر سپریم کورٹ سے اضافہ وقت لیکر آئیں تاکہ اس کی عرضداشت پر سماعت کی جاسکے کیوں آج عدالت اس معاملے میں سماعت کرنے سے قاصر ہے۔
حالانکہ کرنل پروہیت کے وکیل نے عدالت سے بہت منت سماجت کی کہ اس کی اپیل پر سماعت کرلی جائے کیوں کہ نچلی عدالت میں گواہان کی گواہی شروع ہوچکی ہے اور اس معاملے میں مقدمہ کی سماعت پر اسٹے بھی نہیں دیا گیا ہے۔
دو رکنی بینچ کے اعتراض کیئے جانے پر کرنل پروہیت کے وکیل نے دو رکنی بینچ کو کہا کہ وہ سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع ہوں گے اور سپریم کورٹ کی ہدایتوں کی روشنی میں ہائی کورٹ سے رجو ع کیا جائے گا جس کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت ۱۱؍ فروری تک ملتوی کردی۔
آج ہائی کورٹ میں میں این آئی اے کی نمائندگی کرنے کے لیئے ایڈوکیٹ پاٹل جبکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے کے لیئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم موجود تھے ۔